12. July 2017 · Comments Off on ابوالکلام آزاد کی ایک تاریخی تقریر · Categories: Archive, Muslims in South Asia, This, That, & This Again · Tags: , , , , ,

ابوالکلام آزاد کی ایک تاریخی تقریر (۱)

تعارف:

کچھ عرصہ ہوا مجھے دوستوں نے بتایا کہ یو ٹیوب پر مولانا ابوالکلام آزاد کی جامع مسجد دہلی میں کی گئی تاریخی تقریر خود انکی آواز میں مہیا ہے۔ میں نے چیک کیا تو پتہ چلا کہ ایک ہی جعلی رکارڈنگ کو متعدد لوگوں نے طرح طرح سے لوگوں نے اپلوڈ کر رکھا ہے، اور ہر جگہ اس پر خوب خوب خیال آرائیاں ہو رہی ہیں۔ ٹھیک اسیطرح جیسےاس انٹرویو پر ھوئی تھیں، اور اب بھی ہوتی رہتی ہیں، جو احراری جرنلسٹ شورش کاشمیری نے شائع کیا تھا۔ (ابوالکلام آزاد: سوانح و افکار۔ ۱۹۸۸۔ یہ کتاب انکے بیٹوں نے مرتب کی ہے۔)۔ کچھ عرصہ ہوا نوجوان وکیل اور دانشمند کالم نگار یاسر لطیف ہمدانی نے اس انٹرویو کی حقیقت کھول دی تھی اور انگریزی کی حد تک لوگوں کے علم میں آگیا تھا کہ وہ محض ایک جعل ہے۔ یہاں صرف دو باتوں کا اضافہ کرنا چاہونگا۔

شورش نے دو جگہ یہ لکھا ہے کہ مولانا نے۱۴؍۱۵اگست کی نیم شب کی تقریب میں کوئی حصہ نہیں لیا، اور ایک جگہ یہ اضافہ بھی جواہر لال نہرو کی زبانی کیا ہے کہ مولانا اس رات شدت غم سےسوئے بھی نہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہےکہ مولانا پہلی کابینہ میں شامل تھے اور شب کی تقریب میں سب وزراٴ کی طرح شریک ہوےتھے۔ اس موقعہ کی تصویر انٹرنیٹ پر دیکھی جا سکتی ہے۔ مولانا سردار پٹیل کی بغل میں کھڑےہیں۔

 اسیطرح شورش کا دعوی ہے کہ جب حیدرآباد کا معاملہ زور پر تھا تو نظام نے انکے پاس کچھ لوگ بھیجے تھے اور مولانا نے انھیں ۵ پوائنٹ کا مشورہ دیا تھا، جسکا ان نمائندوں نےمذاق اڑایا تھا۔ اسکے بعد شورش لکھتے ہیں: “حیدرآباد کا سقوط ہوگیا تو مولانا مسلمانوں کی بربادی کا احوال سنکر وہاں پہونچے۔ جو لوگ خونریزی کےمرتکب ہو رہے تھےانھیں روکا، مسلمانوں کی ڈھارس بندھائی ۔۔۔ نظام نے کھانے پر مدعو کیا۔ جو مصاحب دعوت نامہ لیکر آیا اس سے کاغذ لیکر پشت پر لکھ دیا: جس شخص کی سوٴ فہم اور نظر کج کی بدولت مسلمانوں کا لہو اسطرح بہا ہے، میرے لئے اسکے دسترخوان پر آنا ممکن ہی نہیں۔ انسانوں کے خون سے ہاتھ رنگ کر مجھے دسترخوان پر مدعو کرنا ابلہانہ جسارت ہے۔” قطع نظر اس سےکہ یہ نجی تحریرکسطرح حیدرآباد سے لاہور شورش کے پاس پہونچی حقیقت یہ ہےکہ حیدرآباد کے نمائندے دہلی میں تھے ہی نہیں، وہ کراچی میں تھےاور مسلم لیگ کے لیڈروں سے مذاکرات کر رہے تھے۔ مولانا ان لوگوں  سے ملتےیا خود حیدرآباد جاتےتو اسکا ذکر انکی کتاب ’انڈیا ونس فریڈم ‘   The Destruction of Hyderabad میں ضرور ہوتا، لیکن ایسا نہیں۔ اے۔ جی۔ نورانی کی تازہ کتاب

مفصل ترین تاریخ ہے، اس میں بھی یہ ذکر نہیں۔ البتہ وہ ۱۹۵۰ میں ضرور حیدرآباد گئے تھے، نہرو کے ساتھ اور وزیرِتعلیم کی حیثیت سے۔ اس موقعہ پر انکے میزبان نظام ہی تھے جو تب راج پرمکھ کہے جاتے تھے۔ اس موقعہ کی تصاویر ویب پربھی موجود ہیں۔

یوٹیوب پر مہیا تقریر (رکارڈنگ اور متن) بھی اسیطرح کا جعل ہے۔ اسکا متن ایک ملغوبہ ہے جس میں اصل تقریر کے ٹکڑے جگہ جگہ شامل ضرور ہیں لیکن انکےآگے پیچھےیاروں نے شورش کاشمیری کی “یادوں” اور مولانا کی بعض دوسری تحریروں کے ٹکڑےلگاکر اپنا تنور گرم کیا ہے۔ آواز کسی ایسے شخص کی ہے جو بے ہنگام ذاکری کرکے کماکھا سکتا ہے لیکن جسےمولانا کی مدلّل خطابت کا ذوق نہیں، صرف چیخنے کا شوق ہے۔ یہ  کوئی نہیں بتاتا کہ یہ رکارڈنگ کس نے کی تھی اور اب کسطرح دستیاب ہوئی ہے۔ ۱۹۴۷ میں ٹیپ رکارڈر عام نہیں تھے۔ اسٹوڈیو میں بھی صرف ’وائر رکارڈنگ ‘ ہی ممکن تھی جو ھر کس و ناکس کےبس کی بات نہ تھی۔ اب اگر یہ رکارڈنگ آل انڈیا ریڈیو نے کی تھی اور وہاں سے حاصل کی گئی ہے تو اعتراف میں کیا رکاوٹ ہوسکتی ہے۔ نہ اس میں کوئی ایسی منافقانہ یا فرقہ وارانہ بات ہے جسکو بھارتی حکومت پوشیدہ رکھنا چاہتی۔ خود یوٹیوب پر آل انڈیا ریڈیو کی ایک رکارڈنگ میں مولانا کی آواز موجود ہے، اور اس مختصر تقریر میں بھی مولانا کی صاف گوئی نمایاں ہے۔

آزادی یا تقسیم کے فوراً بعد مولانا نے دو بڑی اہم تقریریں کی تھیں۔ پہلی تقریر اکتوبر ۱۹۴۷ میں عیدالاضحی کے نماز کے موقعہ پر جامع مسجد دہلی میں، اور دوسری تقریر دسمبر ۱۹۴۷ میں لکھنئو کے وکٹوریہ پارک میں۔ پہلی تقریر بےحد اہم اور متاثرکُن تھی۔ جس نے بھی اس زمانے میں اسے سنا یا پڑھا رو رو دیا، لیکن خوداعتمادی بھی، جو اس وقت نایاب ہو رہی تھی، اس سے حاصل کی۔ اس میں مولانا کا انداز خطابت اپنی معراج پر پہونچ گیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میرےایک چچا، جو پہلے خلافتی تھےاور بعد میں کانگریسی بنے، اسکے پورے پورے پیراگراف ہمیں سنایا کرتے تھے۔ دوسری تقریر کی اہمیت سیاسی یا تنظیمی زیادہ تھی۔ چنانچہ اب وہ کسی کو یاد نہیں۔ کچھ سال بعد مولانا کی ایک تیسری تقریر بھی بہت مشہور ہوئی تھی جو انھوں نےبھارتی پارلیمنٹ میں کی تھی اور جس میں انھوں نے جن سنگھی ذھنیت کے لوگوں، بالخصوص پرشوتم داس ٹنڈن کو براہ راست خطاب کرتےہوئےاپنی صاف گوئی اور زورِخطابت کا بھرپور اظہار کیا تھا۔

ذیل میں مولانا کی جامع مسجد دہلی میں کی گئی تقریر کا اصل متن پیش کیا جاتا ہے۔ اسکی تیاری میں تین کتابوں سے مدد لی گئی ہے:

۱۔ مالک رام (مرتب)، خطباتِ آزاد ( نئی دہلی: ساہتیہ اکادیمی،۱۹۷۴)۔

۲۔ عرش ملسیانی، ابوالکلام آزاد: سوانح حیات (نئی دہلی: پبلیکیشنز ڈویژن، وزارت اطلاعات و نشریات، ۱۹۷۴)۔

۳۔ عابد رضا بیدار، مولانا ابوالکلام آزاد (رامپور: انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل سٹڈیز، ۱۹۶۸)۔

ان کے علاوہ دو تین دیگر کتب سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ مجھےیہ کہتے ہوئے شدید افسوس ہے کہ ان میں سے کسی نے بھی اپنے مآخز کی نشاندہی نہیں کی ہے۔ رشید احمد صدیقی صاحب نےایک جگہ لکھا ہے کہ یہ تقریر متعدد اردو اخباروں میں فوراً شائع ہوگئی تھی۔ میرےخیال میں ان جرائد میں تو ضرور چھپی ہوگی  جنکا تعلق جمعیة العلماٴہند یا انڈین نیشنل کانگریس سے تھا، جیسے الجمعیة (دہلی)، مدینہ (بجنور)، اور قومی آواز (لکھنئو)۔ افسوس کہ انکی پرانی فائلیں مجھے دستیاب نہیں۔

مولانا ابوالکلام آزاد کی ایک تاریخی تقریر (۲)

جامع مسجد، دہلی۔ بعد نماز عیدالاضحیٰ   (اکتوبر ۱۹۴۷)

         میرےعزیزو۔ آپ جانتےہیں کہ وہ کون سی زنجیر ہےجو مجھےیہاں لےآئی ہے۔ میرےلئے شاہجہاں کی اس یادگار مسجد میں یہ اجتماع نیا نہیں۔ میں نے اُس زمانہ میں بھی، کہ اُس پر لیل و نہار کی بہت سی گردشیں بیت چکی ہیں، تمہیں خطاب کیا تھا، جب تمہارے چہروں پر اضمحلال کی بجائےاطمینان تھا اور تمہارے دِلوں میں شک کی بجائےاعتماد۔ آج تمہارےچہروں کا اضطراب اور دِلوں کی ویرانی دیکھتا ہوں تو مجھےبےاختیار پچھلےچند سالوں کی بھولی بسری کہانیاں یاد آجاتی ہیں۔ تمہیں یاد ہے؟ میں نے تمہیں پکارا اور تم نےمیری زبان کاٹ لی۔ میں نےقلم اُٹھایا اور تم نےمیرےہاتھ قلم کردیے۔ میں نےچلنا چاہا تو تم نے میرےپاؤں کاٹ دیے۔ میں نےکروٹ لینی چاہی تو تم نےمیری کمر توڑدی۔ حتیّٰ کہ پچھلےسات سال کی تلخ نوا سیاست جو تمہیں آج داغِ جدائی دے گئی ہےاُس کےعہدِ شباب میں بھی میں نےتمہیں خطرےکی ہر شاہراہ پر جھنجھوڑا، لیکن تم نےمیری صدا سےنہ صرف اعراض کیا بلکہ غفلت و انکار کی ساری سنّتیں تازہ کردیں۔ نتیجہ معلوم کہ آج اُنھی خطروں نےتمھیں گھیرلیا ہےجن کا اندیشہ تمھیں صراطِ مستقیم سےدور لےگیا تھا۔

          سچ پوچھو تو اب میں ایک جمود ہوں یا ایک دُوراُفتادہ صدا، جس نےوطن میں رہ کر بھی غریب الوطنی کی زندگی گذاری ہے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ جو مقام میں نے پہلے دِن اپنے لئے چُن لیا تھا، وہاں میرے بال و پر کاٹ لئےگئےیا میرےآشیانےکےلئےجگہ نہیں رہی۔ بلکہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرےدامن کو تمہاری دست درازیوں سے گِلہ ہے۔ میرا احساس زخمی ہے اور میرےدِل کو صدمہ ہے۔ سوچو تو سہی تم نے کون سی راہ اختیار کی؟ کہاں پہنچےاور اب کہاں کھڑےہو؟ کیا یہ خوف کی زندگی نہیں، اور کیا تمہارے حواس میں اختلال نہیں آگیا۔ یہ خوف تم نے خود فراہم کیا ہے۔

          ابھی کچھ زیادہ عرصہ نہیں بیتا جب میں نے تمہیں کہا تھا کہ دو قوموں کا نظریہ حیاتِ معنوی کےلئےمرض الموت کا درجہ رکھتا ہے۔ اُس کو چھوڑدو، کہ یہ ستون جن پر تم نے بھروسہ کیا ہوا ہے نہایت تیزی سےٹوٹ رہےہیں لیکن تم نےسُنی ان سُنی برابر کردی اور یہ نہ سوچا کہ وقت اور اُسکی رفتار تمہارےلئے اپنا ضابطہ تبدیل نہیں کرسکتے۔ وقت کی رَفتار تھمی نہیں۔ تم دیکھ رہےہو کہ جن سہاروں پر تمہارا بھروسہ تھا وہ تمہیں لاوارِث سمجھ کر تقدیر کےحوالے کرگئے ہیں، وہ تقدیر جو تمہاری دماغی لغت میں مشیّت کی منشا سےمختلف مفہوم رکھتی ہے، یعنی تمہارےنزدیک فقدانِ ہمّت کا نام تقدیر ہے۔

          انگریز کی بساط تمہاری خواہش کے برخلاف اُلٹ دی گئی اور راہ نمائی کےوہ بت جو تم نےوضع کیے تھےوہ بھی دغا دے گئے،  حالانکہ تم نےسمجھا تھا کہ یہ بساط ہمیشہ کےلئےبچھائی گئی ہے، اور انھی بتوں کی پوجا میں تمہاری زندگی ہے۔ میں تمہارے زخموں کو کریدنا نہیں چاہتا اور تمہارے اضطراب میں مزید اِضافہ میری خواہش نہیں، لیکن اگر کچھ دُور ماضی کی طرف پلٹ جاؤ تو تمہارےلئےبہت سی گرہیں کھُل سکتی ہیں۔

         ایک وقت تھا کہ میں نےہندوستان کی آزادی کےحصول کا احساس دِلاتے ہوئےتمہیں پکارا تھا، اور کہا تھا کہ جو ہونےوالا ہے اُس کو کوئی قوم اپنی نحوست سے روک نہیں سکتی۔ ہندوستان کی تقدیر میں بھی سیاسی انقلاب لکھا جاچکا ہےاور اس کی غلامانہ زنجیریں بیسویں صدی کی ہوائےحُرِّیت سےکٹ کر گِرنےوالی ہیں۔ اگر تم نےوقت کےپہلو بہ پہلو قدم اُٹھانےسے پہلوتہی کی اور تعطل کی موجودہ زندگی کو اپنا شعار بنائےرکھا تو مستقبل کا مورّخ لکھےگا کہ تمہارے گروہ نےجو سات کروڑ انسانوں کا ایک غول تھا، ملک کی آزادی کےبارےمیں وہ روَیّہ اختیار کیا جو صفحۂ ہستی سےمحو ہوجانےوالی قوموں کا شیوہ ہوا کرتا ہے۔ آج ہندوستان آزاد ہے، اور تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہےہو کہ وہ سامنےلال قلعہ کی دیوار پر آزاد ہندوستان کا جھنڈا اپنے پورےشکوہ سےلہرا رہا ہے۔ یہ وہی جھنڈا ہےجس کی اُڑانوں سےحاکمانہ غرور کے دِل آزار قہقہےتمسخر کیا کرتےتھے۔

         یہ ٹھیک ہےکہ وقت نےتمہاری خواہشوں کےمطابق انگڑائی نہیں لی بلکہ اُس نےایک قوم کےپیدائشی حق کےاحترام میں کروٹ بدلی ہے، اور یہی وہ انقلاب ہےجس کی ایک کروٹ نےتمہیں بہت حد تک خوف زدہ کردیا ہے۔ تم خیال کرتےہو کہ تم سےکوئی اچھی شےچھِن گئی ہےاور اُسکی جگہ کوئی بُری شےآگئی ہے۔ یہ واقعہ نہیں واہمہ ہے۔ حقیقت یہ ہےکہ بُری شےچلی گئی اور اچھی شےآ گئی۔ ہاں تمہاری بےقراری اِس لئےہےکہ تم نےاپنےتئیں اچھی شےکےلئےتیار نہیں کیا تھا، اور بُری شےکو ہی ملجاوماویٰ سمجھ رکھا تھا۔ میری مراد غیرملکی غلامی سےہےجس کےہاتھ میں تم نےمدّتوں حاکمانہ طمع کا کھلونا بن کر زندگی بسر کی ہے۔ ایک دن تھا جب تم کسی جنگ کےآغاز کی فکر میں تھےاور آج اس جنگ کےانجام سے مضطرِب ہو۔ آخر تمہاری اِس عجلت پر کیا کہوں کہ اِدھر ابھی سفرکی جستجو ختم نہیں ہوئی اور اُدھر گمراہی کا خطرہ بھی درپیش آگیا۔

          میرے بھائی، میں نےہمیشہ سیاسیات کو ذاتیات سےالگ رکھنے کی کوشش کی ہےاور کبھی اس پُر خار وادی میں قدم نہیں رکھا۔ یہی وجہ ہےکہ میری بہت سی باتیں کنایوں کا پہلو لیےہوتی ہیں، لیکن مجھے آج جو کہنا ہےمیں اُسے بے روک ہوکر کہنا چاہتا ہوں۔ متحدہ ہندوستان کا بٹوارہ بنیادی طور پر غلط تھا۔ مذہبی اختلافات کو جس ڈھب سے ہوا دی گئی اُس کا لازمی نتیجہ یہی آثار و مظاہر تھےجو ہم نےاپنی آنکھوں سے دیکھے، اور بدقسمتی سے بعض مقامات پر آج بھی دیکھ رہے ہیں۔

          پچھلے سات برس کی روئیداد دہرانے سےکوئی خاص فائدہ نہیں اور نہ اس سے کوئی اچھا نتیجہ نکل سکتا ہے۔ البتہ ہندوستان کےمسلمانوں پر مصیبتوں کا جو ریلا آیا ہے وہ یقیناً مُسلم لیگ کی غلط قیادت کی فاش غلطیوں کا بدیہی نتیجہ ہے۔ یہ سب کچھ مُسلم لیگ کےلئےموجبِ حیرت ہوسکتا ہےلیکن میرےلئےاس میں کوئی نئی بات نہیں۔ میں پہلے دن ہی سے اِن نتائج پر نظر رکھتا تھا۔

          اب ہندوستان کی سیاست کا رُخ بدل چکا ہے۔ مُسلم لیگ کے لئےیہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اب یہ ہمارےاپنے دماغوں پر منحصر ہےکہ ہم کسی اچھےاندازِ فکر میں سوچ بھی سکتے ہیں یا نہیں۔ اِس خیال سے میں نے نومبر کے دوسرےہفتہ میں ہندوستان کے مُسلمان رہنماؤں کو دہلی بلانےکا قصد کیا ہے۔ دعوت نامےبھیج دئیےگئےہیں۔ ہراس کا یہ موسم عارضی ہے۔ میں تم کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم کو ہمارے سِوا کوئی زیر نہیں کر سکتا۔

          میں نےتمھیں ہمیشہ کہا اور آج پھرکہتا ہوں کہ تذبذب کا راستہ چھوڑدو۔ شک سےہاتھ اُٹھا لو، اور بےعملی کو ترک کردو۔ یہ تین دھار کا انوکھا خنجر لوہےکی اس دودھاری تلوار سےزیادہ کاری ہےجس کےگھاؤ کی کہانیاں میں نےتمہارےنوجوانوں کی زبانی سنی ہیں۔  یہ فرار کی زندگی جو تم نےہجرت کےمقدّس نام پر اختیار کی ہے، اس پر غور کرو۔ تمہیں محسوس ہو گا کہ یہ غلط ہے۔ اپنے دِلوں کو مضبوط بناؤ اور اپنےدماغوں کو سوچنےکی عادت ڈالو، اور پھر دیکھو کہ تمہارےیہ فیصلےکتنےعاجلانہ ہیں۔ آخر کہاں جارہےہو اور کیوں جارہےہو؟ یہ دیکھو مسجد کے مینار تم سےاُچک کر سوال کرتےہیں کہ تم نےاپنی تاریخ کےصفحات کو کہاں گُم کر دیا ہے؟ ابھی کل کی بات ہےکہ یہیں جمنا کےکنارےتمہارے قافلوں نےوضو کیا تھا، اور آج تم ہو کہ تمھیں یہاں رہتےہوئےخوف محسوس ہوتا ہےحالانکہ دہلی تمہارےخون کی سینچی ہوئی ہے۔

         عزیزو، اپنےاندر ایک بنیادی تبدیلی پیدا کرو۔ جس طرح آج سےکچھ عرصہ پہلےتمہارا جوش و خروش بےجا تھا اُسی طرح آج تمہارا یہ خوف و ہراس بھی بےجا ہے۔ مسلمان اور بزدلی یا مسلمان اور اشتعال ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔ سچےمسلمان کو نہ تو کوئی طمع ہِلا سکتی ہےاور نہ کوئی خوف ڈراسکتا ہے۔ چند انسانی چہروں کےغائب از نظر ہو جانے سے ڈرو نہیں۔ اُنہوں نے تمہیں جانےکےلئےہی اکٹھا کیا تھا۔ آج اُنہوں نےتمہارےہاتھ میں سےاپنا ہاتھ کھینچ لیاہےتو یہ تعجب کی بات نہیں۔ یہ دیکھو کہ تمہارےدِل تو اُن کےساتھ ہی رخصت نہیں ہوگئے۔ اگر دِل ابھی تک تمہارےپاس ہیں تو اُن کو اپنےاُس خدا کی جلوہ گاہ بناؤ جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلےعرب کےایک اُمّی کی معرفت فرمایا تھا: إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُواْ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسْتَقَٰمُواْ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۔ ] جو خدا پر ایمان لائے اور اُس پر جم گئے تو اُن کے لئے نہ تو کسی طرح کا ڈر ہے اور نہ کوئی غم ۔[ ہوائیں آتی ہیں اورگُزر جاتی ہیں۔ یہ صرصر سہی لیکن اِس کی عمر کچھ زیادہ نہیں۔ ابھی دیکھتی آنکھوں ابتلا کا یہ موسم گزرنے والا ہے۔ یوں بدل جاؤ جیسےتم پہلےکبھی اِس حالت میں نہ تھے۔

         میں کلام میں تکرار کا عادی نہیں لیکن مجھےتمہاری تغافل پیشگی کےپیشِ نظر باربار کہنا پڑتا ہےکہ تیسری طاقت اپنے گھمنڈ کا پشتارہ اُٹھاکر رخصت ہوچکی ہے۔ جو ہونا تھا وہ ہوکر رہا ہے۔ سیاسی ذہنیت اپنا پچھلا سانچہ توڑچکی، اور اب نیا سانچہ ڈھل رہا ہے۔ اگر اب بھی تمہارے دِلوں کا معاملہ بدلا نہیں اور دماغوں کی چبھن ختم نہیں ہوئی تو پھر حالت دوسری ہے۔ لیکن اگر واقعی تمہارے اندر سچی تبدیلی کی خواہش پیدا ہوگئی ہے تو پھر اِس طرح بدلو جس طرح تاریخ نےاپنے تئیں بدل لیا ہے۔ آج بھی کہ ہم ایک دورِانقلاب کو پورا کرچکے، ہمارےملک کی تاریخ میں کچھ صفحےخالی ہیں اور ہم ان صفحوں میں زیبِ عنوان بن سکتےہیں، مگرشرط یہ ہےکہ ہم اسکےلئےتیار بھی ہوں۔

         عزیزو، تبدیلیوں کےساتھ چلو۔ یہ نہ کہو کہ ہم اس تغیّر کےلئے تیار نہ تھےبلکہ اب تیار ہوجاوٴ۔ ستارے ٹوٹ گئےلیکن سورج تو چمک رہا ہے۔ اس سے کرنیں مانگ لو اور ان اندھیری راہوں میں  بچھادو جہاں اجالےکی سخت ضرورت ہے۔

         میں تمھیں یہ نہیں کہتا کہ تم حاکمانہ اقتدار کےمدرسےسے وفاداری کا سرٹیفکٹ حاصل کرو، اور کاسہ لیسی کی وہی زندگی اختیار کرو جو غیرملکی حاکموں کے عہد میں تمھارا شِعار رہا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جو اجلے نقش و نگار تمھیں اس ہندوستان میں ماضی کی یادگار کےطور پر نظرآرہےہیں وہ تمھارا ہی قافلہ لایا تھا۔ انھیں بھلاوٴ نہیں ۔ انھیں چھوڑو نہیں۔ انکے وارث بن کر رہو،  اور سمجھ لو کہ اگر تم بھاگنے کےلئےتیار نہیں تو پھر کوئی طاقت تمھیں نہیں بھگاسکتی۔ آؤ عہد کرو کہ یہ ملک ہمارا ہے۔ ہم اِسی کے لئے ہیں اور اِس کی تقدیر کےبنیادی فیصلےہماری آواز کےبغیر ادھورےہی رہیں گے۔

         آج زلزلوں سےڈرتےہو؟کبھی تم خود ایک زلزلہ تھے۔ آج اندھیرےسےکانپتےہو؟ کیا یاد نہیں رہا کہ تمہارا وجود خود ایک اُجالا تھا؟ یہ بادلوں کےپانی کی سیل کیا ہے کہ تم نے بھیگ جانے کےخدشےسےاپنےپائینچےچڑھالئےہیں۔ وہ تمہارےہی اسلاف تھےجو سمندروں میں اُتر گئے۔ پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا۔ بجلیاں کڑکیں تو اُن پر مسکرادیے۔ بادل گرجے تو قہقہوں سے جواب دیا۔ صرصر اُٹھی تو رُخ پھیردیا۔ آندھیاں آئیں تو اُن سے کہہ دیا کہ تمہارا راستہ یہ نہیں۔ یہ ایمان کی جانکنی ہےکہ شہنشاہوں کے گریبانوں سےکھیلنےوالےآج خود اپنےہی گریبان کےتار بیچ رہےہیں، اور خدا سے اِس درجہ غافل ہو گئےہیں کہ جیسےاُس پر کبھی ایمان ہی نہیں تھا۔

         عزیزو! میرے پاس تمہارے لئے کوئی نیا نسخہ نہیں ہے، وہی پرانا چودہ سو برس پہلےکا نسخہ ہے۔ وہ نسخہ جس کو کائناتِ انسانی کا سب سے بڑا محسن لایا تھا۔  اور وہ نسخہ ہے قرآن کا یہ اعلان : وَلاَ تَهِنُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ۔ [بد دل نہ ہونا ، اور نہ غم کرنا۔ اگر تم مومن ہو تو تم ہی غالب رہوگے۔]

         آج کی صحبت ختم ہوئی۔ مجھے جو کچھ کہنا تھا وہ اختصار کے ساتھ کہہ چکا۔ لیکن پھر کہتا ہوں اور باربار کہتا ہوں: اپنےحواس پر قابو رکھو۔ اپنےگردوپیش اپنی زندگی خود فراہم کرو۔ یہ منڈی کی چیز نہیں کہ تمھیں خرید کر لادوں۔ یہ تو دل کی دکان ہی میں سےاعمال صالحہ کی نقدی سے دستیاب ہوسکتی ہے۔

         والسلام علیکم و رحمةالله و برکاتہ۔

————————————-

Originally published at HumSub blog in two parts.

یاسر لطیف ہمدانی کی تحریریں:

http://www.wichaar.com/news/315/ARTICLE/17497/2009-12-02.html 

http://www.dailytimes.com.pk/opinion/30-Jun-2014/shorish-kashmiri-azad-and-partition

مولانا آزاد کی ایک تقریر کا اقتباس انکی آواز میں:

https://www.youtube.com/watch?v=n72A1VUYkF4

12. July 2017 · Comments Off on Old Book Catalogs · Categories: Archive, Urdu Language and Literature · Tags: , , , ,

(The following appeared as the ‘Preface’ in a book in Urdu—Fihrist-e Kutub,Siddīq Bukdepo, Lakhna’u (Delhi: Dilli Kitab Ghar, 2016)—that I jointly put together with Dr. Abdur Rasheed of Jami’a Millia University, New Delhi.)

 

Though Urdu books had started to appear in printed form much earlier book printing in Urdu properly took off in the early 1840s when lithography reached India. Invented in 1796 by Johann Alois Senefelder (1771–1834), a German actor and playwright who needed to produce his own writings in an easier and cheaper manner than was allowed by conventional printing, the process turned out to be ideal for Urdu once it reached India. The technology was simple, and the required equipment—some limestone slabs, a hand press—was not prohibitive in cost. Most importantly, the technique perfectly accommodated the skills of the existing population of traditional scribes who had calligraphed Urdu and Persian books for generations. By 1850 there were any number of litho presses across North India, in big towns and small, that were soon steadily producing Urdu books on assorted subjects for general consumption. A few also published weekly or biweekly newspapers that also served to draw attention to their books. The most prominent Urdu press of the 19th century, the press of Munshi Newal Kishore of Lucknow—it had branches in several cities—could have been the first such establishment to publish an independent catalog of its publications, which it then made available to booksellers and individual buyers alike. Its earlier known catalog is dated 1874, and a properly edited reprint of the 1896 edition was recently made available.

It is safe to assume that by the first decade of the new century the practice had been taken up by other large publishers too, in particular the two major ones at Lahore: the Dar-al-Isha’at Punjab of Munshi Mumtaz Ali and the Matba’ Khadim-al-Ta’lim of Munshi Mahbub Alam. These catalogs, made available gratis or at a nominal cost recoverable when an order was placed, were godsend to the booklovers who lived in places where there were no bookstores but who could take advantage of the new, increasingly expanding and efficient postal service. Soon a few other people in the book trade, those who themselves published only a few books but stocked and sold hundreds more of other publishers—e.g. the Nizami Book Depot of Budaun, and the Siddiq Book Depot and Al-Nazir Book Depot of Lucknow—were also issuing general catalogs that catered to an enthusiastic clientele not restricted to any region or topic.

The book at hand is a consolidated/amalgamated reprint of two catalogs published by the Siddiq Book Depot separated by 14 years. We don’t know the history of the establishment. It was most likely named after the owner, and though it published quite a few books under its own imprint over the years its main business was stocking and selling Urdu books from all over India. I recall visiting it often in the 1950s. It existed in a corner of Aminabad, Lucknow’s main shopping area in those days. No browsing was available. One sat on a chair in the verandah in front of the shop and asked for a book or a particular author’s publications. The owner sat at the mouth of the long narrow interior of the shop and called out to his assistants. If the book was well-known or sold well for some other reason it was brought out right away from one of the shelves, but in all other cases the owner would call out a number and a small bundle containing a dozen or so books wrapped in cloth would come down from an unseen space above. The owner would then unwrap the bundle and present you with the book to inspect or call out for some other bundle if the requested book was not found in it. One could of course browse through the other books in the bundle, but asking for too many books without quickly setting aside a few for actual purchase was definitely not encouraged. If one bought enough books one could ask for and obtain a complimentary copy of their printed catalog, other wise one had to buy it like any other book. One of the catalogs that we used contains numbers in the description column that most likely referred to the serial number of the bundles kept in the attic above the shop.

Why publish an old book catalog, and that too of a bookshop long finished and gone? After all, the catalog of a functioning library or bookshop comes with promises of discovery and reading pleasure at least to some of its readers. You can actually gain access to the enticing discoveries if you have the necessary money and other resources. The book in hand no doubt contains listings that would both surprise and delight any reader it however comes with no promise of access.

As we well know at least since the recovery of the great Arabic tome of the tenth century, Kitab-al-Fihrist of Muhammad ibn Ishaq al-Nadim—a bookseller and a calligrapher, in addition to be a scholar and bibliophile—all catalogs are extremely useful. Each is preeminently a snapshot, a vivid image of a people’s or a language’s literary/intellectual wealth. The published catalog of a library displays for our benefit what the library had available for its readers/borrowers at a particular time in history. It also informs us—if we are curious in that regard—that the listed books had been published before that date. It does not, however, tell what books were actually read, or which of them were more popular than others. Similarly the catalog of a bookseller, if dated, tells us what books were available to any buyer in that year. And again, it helps us roughly date a book if listed in it. The important difference between a library catalog and that of a bookseller’s is that while the former shows what books were available at a particular place and under other restricting conditions the latter tells us what was available for common purchase to any booklover across the country or even beyond. The former reflects the preferences of a particular collector or institution, the latter makes us aware of the choices that were available to a much larger cohort that was not restricted to a particular city or region.

Academic Urdu scholarship over the years has produced several valuable literary histories, implicitly also narrating a history of the language. But even the most comprehensive does not tell the entire story; all of them place almost exclusive emphasis on what they consider ‘classics’ or ‘canonical.’ These literary histories overlook books that would otherwise be considered foundational for producing an intellectual history of Urdu speakers, nor do they pay much attention to what they only infrequently, and almost grudgingly, subsume under the rubric of ‘popular literature.’ Additionally, Urdu literary historians pay scant attention to translations and the significant role they played in the formation and cultivation of literary taste and talent in Urdu during the final decades of the 19th century and the early decades of the 20th. Given the large scale closure of public libraries in North India since 1947 and the destruction, through deliberate neglect as much as natural causes, of Urdu collections in those that still survive it is only through the recovery of old booksellers’ catalogs that we might hope to establish some sense of what was at a particular time published and read in Urdu. Some examples should help.

The name ‘Bahram’ or ‘Bahram Daku’ was not too long ago synonymous with exciting reading for Urdu readers of mystery fiction. The character first appeared in 1916, in the novel Nili Chhatri by Zafar Omar. (It was an Indianized version of Maurice Leblanc’s The Hollow Needle.) I knew about the wide popularity of Omar’s book but the full sense of its influence came to me only after went through the 1936 catalog and found that even twenty years after its publication the book was not only still in print it had in fact generated over forty other novels about ‘Bahram.’ Also such titles as Pili ChhatriLal Chhatri, and Jadid Nili Chhatri!

Further, the same catalog made me aware of the fact that just as Hindi popular fiction included a genre described as ‘tilismi or tilismati’ novels so did also Urdu, at least so far as the clients of Siddiq Book Depot in 1936 were concerned. The same catalog lists ten or so novels described as ‘tilismi,’ out of which four are also described as jasusi. That the cataloguer had some clear sense of genres and the books’ contents is suggested by the fact that he described Mirza Ruswa’s Khuni ‘Ashiq (‘The Murdering Lover’)—a translation of Wormwood, A Drama of Paris by Marie Corelli (1855–1924), who was once described as Queen Victoria’s ‘favorite’ novelist—as a ‘philosophical’ novel and not as a thriller, contrary to the practice of most literary historians.

It is little known that between 1890 and 1920, two of the most read and admired novelists in Urdu were George W. M. Reynolds and Marie Corelli thanks to the translations of their novels—over thirty in the case of the former and nearly a dozen in the case of the latter. A few of Reynolds’ novels were translated more than once, and some ran to more than a thousand pages. Among their translators were such notables as Mirza Ruswa, Zafar Ali Khan, and Tirath Ram Firozepuri, and their avowed admirers included Premchand and Manto. The popularity and range of these and other translations can be best traced now only with the help of old catalogs.

Similarly, it is a sad fact that despite incessant claims of Urdu being a language common to Muslims and non-Muslims alike—a claim that actually makes no sense, since all major languages of India are common to all religious groups—histories of Urdu literature have constantly failed to give full consideration to the writings that are of greater social and intellectual relevance to non-Muslim speakers of Urdu. No history of Urdu novel to my knowledge, for example, mentions Shiv Barat Lal Verman (1861–1939), whose copious output I became aware of only through the same catalog. It listed 23 novels by him, all described as ‘philosophical.’ On further research I discovered that he had published perhaps a dozen more novels and a total of over three hundred books, most of which went through more than two printings during his life. His influence on later ‘literary’ novelists could be negligible but his importance in the intellectual life of a large portion of Urdu speakers cannot be denied. The same can be said with regard to Mahashai Sudarshan, another fiction writer of the same period whose popularity at one time matched that of Premchand, and whose works can be discovered again with the help of these catalogs.

Then there is a more mundane concern regarding Urdu printed books. While the earliest publications invariably mentioned the year of publication, the practice, inexplicably, slowly disappeared. Particularly in the case of popular fiction and poetry. Here again, old catalogs—they seem to have been always carefully dated— come handy, and make it possible for us to make reasonable approximations. Likewise, a comparison of prices listed in two catalogs separated by, say, ten years should be helpful too. Popular books tend to get pricier, while those not selling well remain at the same price or are discounted. And a reprint is almost always more costly than the earlier edition.

Finally, in the contemporary educational system in India schools provide instruction in Urdu language while colleges and universities teach Urdu literature. There is, however, no institution in either India or Pakistan where instruction or research is pursued in what could be called ‘Urdu Studies’—i.e. a ‘holistic’ study of all those many movements, publications, trends and conventions that, over the past two hundred years, played major roles in fashioning the intellectual life of Urdu speakers and effecting their private and public behavior. It is a major lacuna, but whenever in the future an attempt is made to produce an intellectual history of Urdu speakers, Muslims and Non-Muslims, these old book catalogs will be an invaluable source of information.

 

From left, CM Naim, historian Saleem Kidwai (standing), Ram Advani and book collector Aslam Mahmud. Photo: Unknown waiter at Lucknow golf course, February 2015, via CM Naim.

(CM Naim,  Saleem Kidwai (standing), Ram Advani and  Aslam Mahmud).

 

When I first visited it in the final months of 1949, the shop that would go on to become an iconic landmark occupied a small area within the vast and mostly empty Gandhi Bhandar in the heart of Lucknow’s Hazratgunj. And the sign proudly said “Ram Advani Bookseller”. The use of the singular made it clear, I suppose, that besides the wares on display you were also going to encounter an individual. I had gone there with a relative, and I doubt if I exchanged more than a formal greeting on that occasion with its handsome and urbane owner.

With time, I became more familiar with the wares of the shop – by then it had moved into the Mayfair Building and acquired two signs, the old red one outside the building and a new “wrong” sign, “Ram Advani Booksellers” above its doors – but I don’t think I bought a single book there during those four years. So in those years too, Mr Advani remained a distant figure, from whom one received a nod of recognition but whose eyes one tried to avoid – needlessly, it must be added – as one stepped out without making any purchase. My meagre pocket money was better spent on a movie at the Mayfair Theatre next door.

I mention all this to underscore what made that shop so unique – it allowed cash-starved booklovers like me to browse. And to enjoy the almost erotic frisson of having access to so many temptations. To pick up a book, flip its pages, admire the cover and illustrations, read the blurb, then move on to the next alluring title. One might not have the money to buy even one book, but so what, one at least knew that they were there for the taking some other time.

Before this man, who himself loved books and knew how booklovers feel – even the cash-starved kind – opened his doors, the practice among the booksellers in Lucknow was as follows. The books were put on high shelves, with a number of counters before them. You went and scoured the shelves and then asked the man at the counter to show you the book you wanted. You had then a few minutes to examine it, with the counter-man watching and judging if you were a likely customer. You could then ask for a couple of more books but if by then you had not decided to buy something, you received a subtle hint to not waste their time any further. The counter man would take away all the books and go to some other customer or start doing something else.

Incidentally, the situation at Urdu bookstores was much worse. There, you had to tell the owner what you wanted – a particular book; the works by a particular author; books in some specific genre – who then asked certain numbered bundles to be brought. He would pull out the specific items and show them to you. A transaction had to be made within 10 minutes or so, otherwise the bundles would again disappear in the loft above. There was no way to know what was available for sale, except by flipping the pages of a published catalogue.

Interestingly, just as Ram Advani changed all that with his browse-able shop for the Anglophone readers, around the same time the late Nasim Ahmad made all Urduwalas happy with his famous “Danish Mahal” in Aminabad, where one could browse without fear. I don’t know if the two ever met but I do know they held each other in much respect.

I’m quite sure I never bought a book from Ram Bhai’s shop until 1966, when I spent a year away from Chicago in Barabanki, my hometown. My relationship with him in the beginning was formal – he was a pretty formal person in most ways, and may have even appeared as somewhat severe to some people. The big difference in age – he was 14 years senior to me – made me feel diffident while talking to him. But over the years, like for so many others before me and after, our relationship turned into a friendship that I cherished then and will always cherish. He became Ram Bhai to me, and I became Naim to him – in his letters he would now use “My dear Naim” instead of “Dear Mr Naim.” Then, some 10 or so years back, he took to calling me “Naim Bhai”. I protested, but he did not stop. I finally explained it to myself as a curious expression of his misplaced sense of propriety in view of my shiny pate and white beard.

As Lucknow changed, it became a place less and less familiar or comfortable for me. Besides depressing physical changes, people’s behaviour in public spaces became radically different. One could not walk safely where once it was possible to stroll. By 1990, Ram Bhai’s shop became an oasis in what had become, for an old fogey like me, a desert, a place with no civility though displaying much opulence. With Ram Bhai I knew where I stood and could never be disappointed in my expectations. With him I could also share memories of an earlier, more civil Lucknow. His shop became the place where I could ask people to come and meet me, and if they were of the “right” kind I would take them upstairs to Ram Bhai’s cool dark mezzanine floor office. We would then have a cup of tea with him – it was always rather weak to my taste though plentiful. Inevitably, the visitors would soon join the ranks of Ram Bhai’s countless admirers across the world.

Buying books at Ram Bhai’s shop was always a problem for me. Too many interesting books on display, too many equally interesting books that he knew would interest me and he could obtain in a few days from the publishers. The most fabulous thing for me and for any visitor from abroad was the fact that the books one bought could be made into perfect parcels and sent homeward abroad through postal service by Ram Bhai’s most capable staff. And for a nominal charge one could even have one’s own other acquisitions mailed similarly. The other thing that made him special for so many was his ability to remember what one liked or was interested in. Every few months, it was normal to receive from him a note, first by postal service then by email, describing the new acquisitions of the shop that should be of interest to the particular recipient.

The same happened when you visited the shop, coming from abroad. After a few minutes of personal chitchat, he immediately started informing you of the new books that should interest you, often giving his own brief but candid view of some particular book. Often there would be several visitors in the shop at the same time, and more than one conversation would be going on as dear old Raju would make more tea and offer biscuits or go out to get samosas for the few who shamelessly asked for them. Ram Bhai would sit and listen and add his two bits once in a while. But he never gossiped. Many of us did, but he would only listen, and only with a look of tired indulgence on his face.

Though he spoke Sindhi and Hindi-Urdu – I doubt if he read them too – Ram Bhai was basically an Anglophone. Nevertheless, in social discourse and manners, he was a quintessential old-time “Lakhnavi”. (That reminds me of the beautifully embroidered chikan kurtas bought for him by Darshi Bhabhi, an epitome of ageless beauty and elegance herself, that he wore with great aplomb – I longed to don the same but knew how false they would look on me.) Whatever he had seen and heard and read about Lucknow was safe and ready in his memory to share with others. And in the limited confines of his shop he had created the aura of courtesy and civility that he believed he had experienced once in Lucknow’s public spaces, as if to impress upon his younger visitors: Yes, this is how it used to be once and could be again if you only tried.

Rest in peace, Ram Bhai, you were a dear and cherished friend to countless people and also a forlorn reminder of a Lucknow that is now gone forever.

 

First published in Scroll.in on March 14, 2016.

 

When I was growing up in the small town of Barabanki in the 1940s, the mosques had no loudspeakers. Those abominations would appear at the political rallies, and then disappear. Even in our Eidgah, where hundreds of people came from all parts of the town to pray together on the two Eid festivals, no loudspeakers were used to summon them. Not only that, even during the prayers, no microphone was used by the imam. In fact, when the idea was suggested by some individuals, it was quickly rejected by most of the so-called notables, who organised the special prayers, as well as the clergy. The imams of the neighborhood mosques, at the time, would proclaim the azaan themselves, or had some young man with a loud voice do the honors from the roof of the mosque. The human sound, often quite melodic, that emerged from his throat had enough reach to bring the nearby faithful to the mosque. And it did so no less efficiently than the electronically engorged aberration that now resounds over Barabanki. Actually, I should use the plural, for what we now have are scores of aberrations.

Last year, when I made a determined effort over several days, I discovered that the fajr or dawn prayer azaan came barging into my room in Barabanki from eight different mosques – mind you, only one of them was within walking distance from my home – and the whole thing, the calls from those eight different mosques, lasted nearly 30 minutes, as each mosque made its separate contribution. At moments, what one heard was an ugly cacophony. Far from providing the aesthetic pleasure that a single human voice produced for most listeners in my boyhood days, the effect of what came over the air now was intolerable even to my deeply devout sisters.

Undistorted and un-amplified, an ordinary human’s voice was perfectly able to do the task in the days when few people had alarm clocks or, for that matter, even a wristwatch. But now, even the tiny mosque in my neighborhood that can accommodate no more than 50 or 60 people has two loudspeakers tied to its minaret, and a sound system that sends its call out to a body of people 50 times larger than its capacity. But one cannot suggest a change. Apparently, the people who attend the neighborhood mosque can do perfectly well without an amplified alarm in all aspects of their daily lives except when it comes to reaching the mosque to form a congregation. Their grandfathers could do without loudspeakers but not these stalwarts of the 21st century.

Given the recent controversy over Sonu Nigam, I totally believe that no use of inappropriate amplification should be allowed in open spaces. Period. Not at akhand paths, not at jagrans, not at wedding celebrations, not at political meetings, not at anything. Not within a mile of any hospital. Not close to any school. And most definitely not during the hours of 10 pm and 7 am. Needless to say, the required laws are there on the books, what does not exist is the will to enforce them.

There are, however, a couple of things that Indian Muslims should themselves be concerned about that are related to the matter of electronically amplified sounds emerging from mosques. The idea of praying together in a congregation is quite important in Islam, hence the need to construct mosques. And that leads to the immediately relevant question: how far away should one mosque be from another? The rule is clear: mosques should be so built that the call from one must not reach another. The worshippers should not be confused, nor should there be an appearance of discord or disunity. If you don’t believe me, ask the All India Muslim Personal Law Board. They will confirm the above, even if reluctantly. For the size and numbers of mosques has now become a matter of honor.

Then there is the second, perhaps even more critical, issue. Everyone is aware of the quantum increase in sectarian thought and practice among the Muslims of South Asia. The evil that started in Pakistan, particularly during the Zia-ul-Haq regime, has now well established itself in India too. Thankfully, the murder and mayhem that are now routine in Pakistan have not yet happened in India. Indian Sunnis are not killing Indian Shi’ahs, nor have the Indian Barelavis gone gunning after Indian Wahhabis. But anyone who reads Urdu journals knows that sectarian intolerance has increased, and no effort to curb it is in sight.

I first visited Pakistan in 1980, and well recall what some friends in Lahore told me was happening in the Old City. After the ‘isha (late evening) prayers, they said, the Barelavis and the Deobandis regularly engaged in denouncing each other, using their azaan amplification systems, and filling the air with choice imprecations. My friend had said that with a smile. Now, of course, that smile is long gone. In fact, when I was in Lahore last year, and staying with a friend in an affluent neighborhood, I heard an azaan that I had never heard before. Later I found out that the Barelavis in Pakistan now have their own special azaan, and the additional material was put in basically to annoy the Deobandis. Probably the same is now happening in Bareli and Mumbai, too, but until last year it had not reached Barabanki.

Public display of religiosity is now common place. Piety that used to be expressed privately or through public humanitarian acts has now been replaced by a religiosity that is much more about pomp and glory, about self-exaltation, than humility and service. The cry one hears is of shaukat-e Islam (Glory of Islam). Anything that detracts from that presumed glory becomes “intolerable”. Sonu Nigam’s complaint against the use of loudspeakers was turned into an attack on Islam’s “honor”, and had to be retaliated against by demanding that he should be denuded of his “honor”. “Shave his head off,” brayed one savior of Islam. “Put a garland of shoes around his neck.” Now I only wish Sonu Nigam had saved the hair clippings and mailed them to his detractor.

More seriously, it is about time administrators across the country began to enforce the existing laws. Put strict limits on amplification. Enforce hours. Punish those who break the laws. And the so-called leaders – political and religious – should also make sure that the presumed piety of one party does not put undue burden on the rest of the citizens of the country.

 

First published at Scroll.in on April 21, 2017.