12. July 2017 · Comments Off on ابوالکلام آزاد کی ایک تاریخی تقریر · Categories: Archive, Muslims in South Asia, This, That, & This Again · Tags: , , , , ,

ابوالکلام آزاد کی ایک تاریخی تقریر (۱)

تعارف:

کچھ عرصہ ہوا مجھے دوستوں نے بتایا کہ یو ٹیوب پر مولانا ابوالکلام آزاد کی جامع مسجد دہلی میں کی گئی تاریخی تقریر خود انکی آواز میں مہیا ہے۔ میں نے چیک کیا تو پتہ چلا کہ ایک ہی جعلی رکارڈنگ کو متعدد لوگوں نے طرح طرح سے لوگوں نے اپلوڈ کر رکھا ہے، اور ہر جگہ اس پر خوب خوب خیال آرائیاں ہو رہی ہیں۔ ٹھیک اسیطرح جیسےاس انٹرویو پر ھوئی تھیں، اور اب بھی ہوتی رہتی ہیں، جو احراری جرنلسٹ شورش کاشمیری نے شائع کیا تھا۔ (ابوالکلام آزاد: سوانح و افکار۔ ۱۹۸۸۔ یہ کتاب انکے بیٹوں نے مرتب کی ہے۔)۔ کچھ عرصہ ہوا نوجوان وکیل اور دانشمند کالم نگار یاسر لطیف ہمدانی نے اس انٹرویو کی حقیقت کھول دی تھی اور انگریزی کی حد تک لوگوں کے علم میں آگیا تھا کہ وہ محض ایک جعل ہے۔ یہاں صرف دو باتوں کا اضافہ کرنا چاہونگا۔

شورش نے دو جگہ یہ لکھا ہے کہ مولانا نے۱۴؍۱۵اگست کی نیم شب کی تقریب میں کوئی حصہ نہیں لیا، اور ایک جگہ یہ اضافہ بھی جواہر لال نہرو کی زبانی کیا ہے کہ مولانا اس رات شدت غم سےسوئے بھی نہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہےکہ مولانا پہلی کابینہ میں شامل تھے اور شب کی تقریب میں سب وزراٴ کی طرح شریک ہوےتھے۔ اس موقعہ کی تصویر انٹرنیٹ پر دیکھی جا سکتی ہے۔ مولانا سردار پٹیل کی بغل میں کھڑےہیں۔

 اسیطرح شورش کا دعوی ہے کہ جب حیدرآباد کا معاملہ زور پر تھا تو نظام نے انکے پاس کچھ لوگ بھیجے تھے اور مولانا نے انھیں ۵ پوائنٹ کا مشورہ دیا تھا، جسکا ان نمائندوں نےمذاق اڑایا تھا۔ اسکے بعد شورش لکھتے ہیں: “حیدرآباد کا سقوط ہوگیا تو مولانا مسلمانوں کی بربادی کا احوال سنکر وہاں پہونچے۔ جو لوگ خونریزی کےمرتکب ہو رہے تھےانھیں روکا، مسلمانوں کی ڈھارس بندھائی ۔۔۔ نظام نے کھانے پر مدعو کیا۔ جو مصاحب دعوت نامہ لیکر آیا اس سے کاغذ لیکر پشت پر لکھ دیا: جس شخص کی سوٴ فہم اور نظر کج کی بدولت مسلمانوں کا لہو اسطرح بہا ہے، میرے لئے اسکے دسترخوان پر آنا ممکن ہی نہیں۔ انسانوں کے خون سے ہاتھ رنگ کر مجھے دسترخوان پر مدعو کرنا ابلہانہ جسارت ہے۔” قطع نظر اس سےکہ یہ نجی تحریرکسطرح حیدرآباد سے لاہور شورش کے پاس پہونچی حقیقت یہ ہےکہ حیدرآباد کے نمائندے دہلی میں تھے ہی نہیں، وہ کراچی میں تھےاور مسلم لیگ کے لیڈروں سے مذاکرات کر رہے تھے۔ مولانا ان لوگوں  سے ملتےیا خود حیدرآباد جاتےتو اسکا ذکر انکی کتاب ’انڈیا ونس فریڈم ‘   The Destruction of Hyderabad میں ضرور ہوتا، لیکن ایسا نہیں۔ اے۔ جی۔ نورانی کی تازہ کتاب

مفصل ترین تاریخ ہے، اس میں بھی یہ ذکر نہیں۔ البتہ وہ ۱۹۵۰ میں ضرور حیدرآباد گئے تھے، نہرو کے ساتھ اور وزیرِتعلیم کی حیثیت سے۔ اس موقعہ پر انکے میزبان نظام ہی تھے جو تب راج پرمکھ کہے جاتے تھے۔ اس موقعہ کی تصاویر ویب پربھی موجود ہیں۔

یوٹیوب پر مہیا تقریر (رکارڈنگ اور متن) بھی اسیطرح کا جعل ہے۔ اسکا متن ایک ملغوبہ ہے جس میں اصل تقریر کے ٹکڑے جگہ جگہ شامل ضرور ہیں لیکن انکےآگے پیچھےیاروں نے شورش کاشمیری کی “یادوں” اور مولانا کی بعض دوسری تحریروں کے ٹکڑےلگاکر اپنا تنور گرم کیا ہے۔ آواز کسی ایسے شخص کی ہے جو بے ہنگام ذاکری کرکے کماکھا سکتا ہے لیکن جسےمولانا کی مدلّل خطابت کا ذوق نہیں، صرف چیخنے کا شوق ہے۔ یہ  کوئی نہیں بتاتا کہ یہ رکارڈنگ کس نے کی تھی اور اب کسطرح دستیاب ہوئی ہے۔ ۱۹۴۷ میں ٹیپ رکارڈر عام نہیں تھے۔ اسٹوڈیو میں بھی صرف ’وائر رکارڈنگ ‘ ہی ممکن تھی جو ھر کس و ناکس کےبس کی بات نہ تھی۔ اب اگر یہ رکارڈنگ آل انڈیا ریڈیو نے کی تھی اور وہاں سے حاصل کی گئی ہے تو اعتراف میں کیا رکاوٹ ہوسکتی ہے۔ نہ اس میں کوئی ایسی منافقانہ یا فرقہ وارانہ بات ہے جسکو بھارتی حکومت پوشیدہ رکھنا چاہتی۔ خود یوٹیوب پر آل انڈیا ریڈیو کی ایک رکارڈنگ میں مولانا کی آواز موجود ہے، اور اس مختصر تقریر میں بھی مولانا کی صاف گوئی نمایاں ہے۔

آزادی یا تقسیم کے فوراً بعد مولانا نے دو بڑی اہم تقریریں کی تھیں۔ پہلی تقریر اکتوبر ۱۹۴۷ میں عیدالاضحی کے نماز کے موقعہ پر جامع مسجد دہلی میں، اور دوسری تقریر دسمبر ۱۹۴۷ میں لکھنئو کے وکٹوریہ پارک میں۔ پہلی تقریر بےحد اہم اور متاثرکُن تھی۔ جس نے بھی اس زمانے میں اسے سنا یا پڑھا رو رو دیا، لیکن خوداعتمادی بھی، جو اس وقت نایاب ہو رہی تھی، اس سے حاصل کی۔ اس میں مولانا کا انداز خطابت اپنی معراج پر پہونچ گیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میرےایک چچا، جو پہلے خلافتی تھےاور بعد میں کانگریسی بنے، اسکے پورے پورے پیراگراف ہمیں سنایا کرتے تھے۔ دوسری تقریر کی اہمیت سیاسی یا تنظیمی زیادہ تھی۔ چنانچہ اب وہ کسی کو یاد نہیں۔ کچھ سال بعد مولانا کی ایک تیسری تقریر بھی بہت مشہور ہوئی تھی جو انھوں نےبھارتی پارلیمنٹ میں کی تھی اور جس میں انھوں نے جن سنگھی ذھنیت کے لوگوں، بالخصوص پرشوتم داس ٹنڈن کو براہ راست خطاب کرتےہوئےاپنی صاف گوئی اور زورِخطابت کا بھرپور اظہار کیا تھا۔

ذیل میں مولانا کی جامع مسجد دہلی میں کی گئی تقریر کا اصل متن پیش کیا جاتا ہے۔ اسکی تیاری میں تین کتابوں سے مدد لی گئی ہے:

۱۔ مالک رام (مرتب)، خطباتِ آزاد ( نئی دہلی: ساہتیہ اکادیمی،۱۹۷۴)۔

۲۔ عرش ملسیانی، ابوالکلام آزاد: سوانح حیات (نئی دہلی: پبلیکیشنز ڈویژن، وزارت اطلاعات و نشریات، ۱۹۷۴)۔

۳۔ عابد رضا بیدار، مولانا ابوالکلام آزاد (رامپور: انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل سٹڈیز، ۱۹۶۸)۔

ان کے علاوہ دو تین دیگر کتب سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ مجھےیہ کہتے ہوئے شدید افسوس ہے کہ ان میں سے کسی نے بھی اپنے مآخز کی نشاندہی نہیں کی ہے۔ رشید احمد صدیقی صاحب نےایک جگہ لکھا ہے کہ یہ تقریر متعدد اردو اخباروں میں فوراً شائع ہوگئی تھی۔ میرےخیال میں ان جرائد میں تو ضرور چھپی ہوگی  جنکا تعلق جمعیة العلماٴہند یا انڈین نیشنل کانگریس سے تھا، جیسے الجمعیة (دہلی)، مدینہ (بجنور)، اور قومی آواز (لکھنئو)۔ افسوس کہ انکی پرانی فائلیں مجھے دستیاب نہیں۔

مولانا ابوالکلام آزاد کی ایک تاریخی تقریر (۲)

جامع مسجد، دہلی۔ بعد نماز عیدالاضحیٰ   (اکتوبر ۱۹۴۷)

         میرےعزیزو۔ آپ جانتےہیں کہ وہ کون سی زنجیر ہےجو مجھےیہاں لےآئی ہے۔ میرےلئے شاہجہاں کی اس یادگار مسجد میں یہ اجتماع نیا نہیں۔ میں نے اُس زمانہ میں بھی، کہ اُس پر لیل و نہار کی بہت سی گردشیں بیت چکی ہیں، تمہیں خطاب کیا تھا، جب تمہارے چہروں پر اضمحلال کی بجائےاطمینان تھا اور تمہارے دِلوں میں شک کی بجائےاعتماد۔ آج تمہارےچہروں کا اضطراب اور دِلوں کی ویرانی دیکھتا ہوں تو مجھےبےاختیار پچھلےچند سالوں کی بھولی بسری کہانیاں یاد آجاتی ہیں۔ تمہیں یاد ہے؟ میں نے تمہیں پکارا اور تم نےمیری زبان کاٹ لی۔ میں نےقلم اُٹھایا اور تم نےمیرےہاتھ قلم کردیے۔ میں نےچلنا چاہا تو تم نے میرےپاؤں کاٹ دیے۔ میں نےکروٹ لینی چاہی تو تم نےمیری کمر توڑدی۔ حتیّٰ کہ پچھلےسات سال کی تلخ نوا سیاست جو تمہیں آج داغِ جدائی دے گئی ہےاُس کےعہدِ شباب میں بھی میں نےتمہیں خطرےکی ہر شاہراہ پر جھنجھوڑا، لیکن تم نےمیری صدا سےنہ صرف اعراض کیا بلکہ غفلت و انکار کی ساری سنّتیں تازہ کردیں۔ نتیجہ معلوم کہ آج اُنھی خطروں نےتمھیں گھیرلیا ہےجن کا اندیشہ تمھیں صراطِ مستقیم سےدور لےگیا تھا۔

          سچ پوچھو تو اب میں ایک جمود ہوں یا ایک دُوراُفتادہ صدا، جس نےوطن میں رہ کر بھی غریب الوطنی کی زندگی گذاری ہے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ جو مقام میں نے پہلے دِن اپنے لئے چُن لیا تھا، وہاں میرے بال و پر کاٹ لئےگئےیا میرےآشیانےکےلئےجگہ نہیں رہی۔ بلکہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرےدامن کو تمہاری دست درازیوں سے گِلہ ہے۔ میرا احساس زخمی ہے اور میرےدِل کو صدمہ ہے۔ سوچو تو سہی تم نے کون سی راہ اختیار کی؟ کہاں پہنچےاور اب کہاں کھڑےہو؟ کیا یہ خوف کی زندگی نہیں، اور کیا تمہارے حواس میں اختلال نہیں آگیا۔ یہ خوف تم نے خود فراہم کیا ہے۔

          ابھی کچھ زیادہ عرصہ نہیں بیتا جب میں نے تمہیں کہا تھا کہ دو قوموں کا نظریہ حیاتِ معنوی کےلئےمرض الموت کا درجہ رکھتا ہے۔ اُس کو چھوڑدو، کہ یہ ستون جن پر تم نے بھروسہ کیا ہوا ہے نہایت تیزی سےٹوٹ رہےہیں لیکن تم نےسُنی ان سُنی برابر کردی اور یہ نہ سوچا کہ وقت اور اُسکی رفتار تمہارےلئے اپنا ضابطہ تبدیل نہیں کرسکتے۔ وقت کی رَفتار تھمی نہیں۔ تم دیکھ رہےہو کہ جن سہاروں پر تمہارا بھروسہ تھا وہ تمہیں لاوارِث سمجھ کر تقدیر کےحوالے کرگئے ہیں، وہ تقدیر جو تمہاری دماغی لغت میں مشیّت کی منشا سےمختلف مفہوم رکھتی ہے، یعنی تمہارےنزدیک فقدانِ ہمّت کا نام تقدیر ہے۔

          انگریز کی بساط تمہاری خواہش کے برخلاف اُلٹ دی گئی اور راہ نمائی کےوہ بت جو تم نےوضع کیے تھےوہ بھی دغا دے گئے،  حالانکہ تم نےسمجھا تھا کہ یہ بساط ہمیشہ کےلئےبچھائی گئی ہے، اور انھی بتوں کی پوجا میں تمہاری زندگی ہے۔ میں تمہارے زخموں کو کریدنا نہیں چاہتا اور تمہارے اضطراب میں مزید اِضافہ میری خواہش نہیں، لیکن اگر کچھ دُور ماضی کی طرف پلٹ جاؤ تو تمہارےلئےبہت سی گرہیں کھُل سکتی ہیں۔

         ایک وقت تھا کہ میں نےہندوستان کی آزادی کےحصول کا احساس دِلاتے ہوئےتمہیں پکارا تھا، اور کہا تھا کہ جو ہونےوالا ہے اُس کو کوئی قوم اپنی نحوست سے روک نہیں سکتی۔ ہندوستان کی تقدیر میں بھی سیاسی انقلاب لکھا جاچکا ہےاور اس کی غلامانہ زنجیریں بیسویں صدی کی ہوائےحُرِّیت سےکٹ کر گِرنےوالی ہیں۔ اگر تم نےوقت کےپہلو بہ پہلو قدم اُٹھانےسے پہلوتہی کی اور تعطل کی موجودہ زندگی کو اپنا شعار بنائےرکھا تو مستقبل کا مورّخ لکھےگا کہ تمہارے گروہ نےجو سات کروڑ انسانوں کا ایک غول تھا، ملک کی آزادی کےبارےمیں وہ روَیّہ اختیار کیا جو صفحۂ ہستی سےمحو ہوجانےوالی قوموں کا شیوہ ہوا کرتا ہے۔ آج ہندوستان آزاد ہے، اور تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہےہو کہ وہ سامنےلال قلعہ کی دیوار پر آزاد ہندوستان کا جھنڈا اپنے پورےشکوہ سےلہرا رہا ہے۔ یہ وہی جھنڈا ہےجس کی اُڑانوں سےحاکمانہ غرور کے دِل آزار قہقہےتمسخر کیا کرتےتھے۔

         یہ ٹھیک ہےکہ وقت نےتمہاری خواہشوں کےمطابق انگڑائی نہیں لی بلکہ اُس نےایک قوم کےپیدائشی حق کےاحترام میں کروٹ بدلی ہے، اور یہی وہ انقلاب ہےجس کی ایک کروٹ نےتمہیں بہت حد تک خوف زدہ کردیا ہے۔ تم خیال کرتےہو کہ تم سےکوئی اچھی شےچھِن گئی ہےاور اُسکی جگہ کوئی بُری شےآگئی ہے۔ یہ واقعہ نہیں واہمہ ہے۔ حقیقت یہ ہےکہ بُری شےچلی گئی اور اچھی شےآ گئی۔ ہاں تمہاری بےقراری اِس لئےہےکہ تم نےاپنےتئیں اچھی شےکےلئےتیار نہیں کیا تھا، اور بُری شےکو ہی ملجاوماویٰ سمجھ رکھا تھا۔ میری مراد غیرملکی غلامی سےہےجس کےہاتھ میں تم نےمدّتوں حاکمانہ طمع کا کھلونا بن کر زندگی بسر کی ہے۔ ایک دن تھا جب تم کسی جنگ کےآغاز کی فکر میں تھےاور آج اس جنگ کےانجام سے مضطرِب ہو۔ آخر تمہاری اِس عجلت پر کیا کہوں کہ اِدھر ابھی سفرکی جستجو ختم نہیں ہوئی اور اُدھر گمراہی کا خطرہ بھی درپیش آگیا۔

          میرے بھائی، میں نےہمیشہ سیاسیات کو ذاتیات سےالگ رکھنے کی کوشش کی ہےاور کبھی اس پُر خار وادی میں قدم نہیں رکھا۔ یہی وجہ ہےکہ میری بہت سی باتیں کنایوں کا پہلو لیےہوتی ہیں، لیکن مجھے آج جو کہنا ہےمیں اُسے بے روک ہوکر کہنا چاہتا ہوں۔ متحدہ ہندوستان کا بٹوارہ بنیادی طور پر غلط تھا۔ مذہبی اختلافات کو جس ڈھب سے ہوا دی گئی اُس کا لازمی نتیجہ یہی آثار و مظاہر تھےجو ہم نےاپنی آنکھوں سے دیکھے، اور بدقسمتی سے بعض مقامات پر آج بھی دیکھ رہے ہیں۔

          پچھلے سات برس کی روئیداد دہرانے سےکوئی خاص فائدہ نہیں اور نہ اس سے کوئی اچھا نتیجہ نکل سکتا ہے۔ البتہ ہندوستان کےمسلمانوں پر مصیبتوں کا جو ریلا آیا ہے وہ یقیناً مُسلم لیگ کی غلط قیادت کی فاش غلطیوں کا بدیہی نتیجہ ہے۔ یہ سب کچھ مُسلم لیگ کےلئےموجبِ حیرت ہوسکتا ہےلیکن میرےلئےاس میں کوئی نئی بات نہیں۔ میں پہلے دن ہی سے اِن نتائج پر نظر رکھتا تھا۔

          اب ہندوستان کی سیاست کا رُخ بدل چکا ہے۔ مُسلم لیگ کے لئےیہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اب یہ ہمارےاپنے دماغوں پر منحصر ہےکہ ہم کسی اچھےاندازِ فکر میں سوچ بھی سکتے ہیں یا نہیں۔ اِس خیال سے میں نے نومبر کے دوسرےہفتہ میں ہندوستان کے مُسلمان رہنماؤں کو دہلی بلانےکا قصد کیا ہے۔ دعوت نامےبھیج دئیےگئےہیں۔ ہراس کا یہ موسم عارضی ہے۔ میں تم کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم کو ہمارے سِوا کوئی زیر نہیں کر سکتا۔

          میں نےتمھیں ہمیشہ کہا اور آج پھرکہتا ہوں کہ تذبذب کا راستہ چھوڑدو۔ شک سےہاتھ اُٹھا لو، اور بےعملی کو ترک کردو۔ یہ تین دھار کا انوکھا خنجر لوہےکی اس دودھاری تلوار سےزیادہ کاری ہےجس کےگھاؤ کی کہانیاں میں نےتمہارےنوجوانوں کی زبانی سنی ہیں۔  یہ فرار کی زندگی جو تم نےہجرت کےمقدّس نام پر اختیار کی ہے، اس پر غور کرو۔ تمہیں محسوس ہو گا کہ یہ غلط ہے۔ اپنے دِلوں کو مضبوط بناؤ اور اپنےدماغوں کو سوچنےکی عادت ڈالو، اور پھر دیکھو کہ تمہارےیہ فیصلےکتنےعاجلانہ ہیں۔ آخر کہاں جارہےہو اور کیوں جارہےہو؟ یہ دیکھو مسجد کے مینار تم سےاُچک کر سوال کرتےہیں کہ تم نےاپنی تاریخ کےصفحات کو کہاں گُم کر دیا ہے؟ ابھی کل کی بات ہےکہ یہیں جمنا کےکنارےتمہارے قافلوں نےوضو کیا تھا، اور آج تم ہو کہ تمھیں یہاں رہتےہوئےخوف محسوس ہوتا ہےحالانکہ دہلی تمہارےخون کی سینچی ہوئی ہے۔

         عزیزو، اپنےاندر ایک بنیادی تبدیلی پیدا کرو۔ جس طرح آج سےکچھ عرصہ پہلےتمہارا جوش و خروش بےجا تھا اُسی طرح آج تمہارا یہ خوف و ہراس بھی بےجا ہے۔ مسلمان اور بزدلی یا مسلمان اور اشتعال ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔ سچےمسلمان کو نہ تو کوئی طمع ہِلا سکتی ہےاور نہ کوئی خوف ڈراسکتا ہے۔ چند انسانی چہروں کےغائب از نظر ہو جانے سے ڈرو نہیں۔ اُنہوں نے تمہیں جانےکےلئےہی اکٹھا کیا تھا۔ آج اُنہوں نےتمہارےہاتھ میں سےاپنا ہاتھ کھینچ لیاہےتو یہ تعجب کی بات نہیں۔ یہ دیکھو کہ تمہارےدِل تو اُن کےساتھ ہی رخصت نہیں ہوگئے۔ اگر دِل ابھی تک تمہارےپاس ہیں تو اُن کو اپنےاُس خدا کی جلوہ گاہ بناؤ جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلےعرب کےایک اُمّی کی معرفت فرمایا تھا: إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُواْ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسْتَقَٰمُواْ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۔ ] جو خدا پر ایمان لائے اور اُس پر جم گئے تو اُن کے لئے نہ تو کسی طرح کا ڈر ہے اور نہ کوئی غم ۔[ ہوائیں آتی ہیں اورگُزر جاتی ہیں۔ یہ صرصر سہی لیکن اِس کی عمر کچھ زیادہ نہیں۔ ابھی دیکھتی آنکھوں ابتلا کا یہ موسم گزرنے والا ہے۔ یوں بدل جاؤ جیسےتم پہلےکبھی اِس حالت میں نہ تھے۔

         میں کلام میں تکرار کا عادی نہیں لیکن مجھےتمہاری تغافل پیشگی کےپیشِ نظر باربار کہنا پڑتا ہےکہ تیسری طاقت اپنے گھمنڈ کا پشتارہ اُٹھاکر رخصت ہوچکی ہے۔ جو ہونا تھا وہ ہوکر رہا ہے۔ سیاسی ذہنیت اپنا پچھلا سانچہ توڑچکی، اور اب نیا سانچہ ڈھل رہا ہے۔ اگر اب بھی تمہارے دِلوں کا معاملہ بدلا نہیں اور دماغوں کی چبھن ختم نہیں ہوئی تو پھر حالت دوسری ہے۔ لیکن اگر واقعی تمہارے اندر سچی تبدیلی کی خواہش پیدا ہوگئی ہے تو پھر اِس طرح بدلو جس طرح تاریخ نےاپنے تئیں بدل لیا ہے۔ آج بھی کہ ہم ایک دورِانقلاب کو پورا کرچکے، ہمارےملک کی تاریخ میں کچھ صفحےخالی ہیں اور ہم ان صفحوں میں زیبِ عنوان بن سکتےہیں، مگرشرط یہ ہےکہ ہم اسکےلئےتیار بھی ہوں۔

         عزیزو، تبدیلیوں کےساتھ چلو۔ یہ نہ کہو کہ ہم اس تغیّر کےلئے تیار نہ تھےبلکہ اب تیار ہوجاوٴ۔ ستارے ٹوٹ گئےلیکن سورج تو چمک رہا ہے۔ اس سے کرنیں مانگ لو اور ان اندھیری راہوں میں  بچھادو جہاں اجالےکی سخت ضرورت ہے۔

         میں تمھیں یہ نہیں کہتا کہ تم حاکمانہ اقتدار کےمدرسےسے وفاداری کا سرٹیفکٹ حاصل کرو، اور کاسہ لیسی کی وہی زندگی اختیار کرو جو غیرملکی حاکموں کے عہد میں تمھارا شِعار رہا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جو اجلے نقش و نگار تمھیں اس ہندوستان میں ماضی کی یادگار کےطور پر نظرآرہےہیں وہ تمھارا ہی قافلہ لایا تھا۔ انھیں بھلاوٴ نہیں ۔ انھیں چھوڑو نہیں۔ انکے وارث بن کر رہو،  اور سمجھ لو کہ اگر تم بھاگنے کےلئےتیار نہیں تو پھر کوئی طاقت تمھیں نہیں بھگاسکتی۔ آؤ عہد کرو کہ یہ ملک ہمارا ہے۔ ہم اِسی کے لئے ہیں اور اِس کی تقدیر کےبنیادی فیصلےہماری آواز کےبغیر ادھورےہی رہیں گے۔

         آج زلزلوں سےڈرتےہو؟کبھی تم خود ایک زلزلہ تھے۔ آج اندھیرےسےکانپتےہو؟ کیا یاد نہیں رہا کہ تمہارا وجود خود ایک اُجالا تھا؟ یہ بادلوں کےپانی کی سیل کیا ہے کہ تم نے بھیگ جانے کےخدشےسےاپنےپائینچےچڑھالئےہیں۔ وہ تمہارےہی اسلاف تھےجو سمندروں میں اُتر گئے۔ پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا۔ بجلیاں کڑکیں تو اُن پر مسکرادیے۔ بادل گرجے تو قہقہوں سے جواب دیا۔ صرصر اُٹھی تو رُخ پھیردیا۔ آندھیاں آئیں تو اُن سے کہہ دیا کہ تمہارا راستہ یہ نہیں۔ یہ ایمان کی جانکنی ہےکہ شہنشاہوں کے گریبانوں سےکھیلنےوالےآج خود اپنےہی گریبان کےتار بیچ رہےہیں، اور خدا سے اِس درجہ غافل ہو گئےہیں کہ جیسےاُس پر کبھی ایمان ہی نہیں تھا۔

         عزیزو! میرے پاس تمہارے لئے کوئی نیا نسخہ نہیں ہے، وہی پرانا چودہ سو برس پہلےکا نسخہ ہے۔ وہ نسخہ جس کو کائناتِ انسانی کا سب سے بڑا محسن لایا تھا۔  اور وہ نسخہ ہے قرآن کا یہ اعلان : وَلاَ تَهِنُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ۔ [بد دل نہ ہونا ، اور نہ غم کرنا۔ اگر تم مومن ہو تو تم ہی غالب رہوگے۔]

         آج کی صحبت ختم ہوئی۔ مجھے جو کچھ کہنا تھا وہ اختصار کے ساتھ کہہ چکا۔ لیکن پھر کہتا ہوں اور باربار کہتا ہوں: اپنےحواس پر قابو رکھو۔ اپنےگردوپیش اپنی زندگی خود فراہم کرو۔ یہ منڈی کی چیز نہیں کہ تمھیں خرید کر لادوں۔ یہ تو دل کی دکان ہی میں سےاعمال صالحہ کی نقدی سے دستیاب ہوسکتی ہے۔

         والسلام علیکم و رحمةالله و برکاتہ۔

————————————-

Originally published at HumSub blog in two parts.

یاسر لطیف ہمدانی کی تحریریں:

http://www.wichaar.com/news/315/ARTICLE/17497/2009-12-02.html 

http://www.dailytimes.com.pk/opinion/30-Jun-2014/shorish-kashmiri-azad-and-partition

مولانا آزاد کی ایک تقریر کا اقتباس انکی آواز میں:

https://www.youtube.com/watch?v=n72A1VUYkF4

In 2017 we shall celebrate the 200th birthday of Sir Syed Ahmad Khan, the Indian Muslim who was declared a kafir by the mullahs of India on more counts than any other person before him or after. Here is a partial list of the reasons why some mullah or other thought Sir Syed was beyond the pale of Islam. He does not believe that wearing Western clothes is against the Shari’a. He believes that Angels and Satan are not real beings and instead believes them to be human powers, as endowed by God, to do good or bad. He believes that the Quran does not mention any miracle attributable to the Prophet Muhammad. He believes that Islam ended slavery forever even during the Prophet’s life. He eats at a table, while sitting on a chair, and uses a knife and a fork. He shares his table with Christians, and also eats at their homes. As countable in his biography by Altaf Husain Hali, the list runs to more than fifty similar accusations.

One of Sir Syed’s most persistent detractors was a Maulvi Ali Bakhsh Khan, a Subordinate Judge in the colonial administration. When Ali Bakhsh Khan went on Hajj he spent more time in obtaining fatwas against Sir Syed and publishing them back in India. Sir Syed’s response was something to this effect: I’m proud of my kufr because it made possible my friend Ali Bakhsh Khan to obtain the blessings of a Hajj. On another occasion, when his detractors fell silent for a while, Sir Syed wrote in his journal, Tahzib-al-Akhlaq, “I feel like that old biddy who was regularly teased by market urchins, and if any day it didn’t occur she would say, ‘What happened to the boys? Has some plague taken them?’”

Until now they used to be my examples of how best to respond to the fatwas that are headlined every other Thursday in the press—issued by some obscure entity eager to seek some easy publicity and written-up by some perfervid newsperson anxious to get into print that day. Now I have a third example, the statement issued by A R Rahman in response to the fatwa issued by Mufti Mahmood Akhtarul Qadri, the imam of Haji Alig Dargah Masjid, in response to a request made by Saeed Noori of the Raza Academy, Bombay. And what a classy response it is!

“What, and if, I had the good fortune of facing Allah, and He were to ask me on Judgement Day: ‘I gave you faith, talent, money, fame and health… why did you not do music for my beloved Muhammad (Peace be upon him) film? A film whose intention is to unite humanity, clear misconceptions and spread my message that life is kindness, about uplifting the poor, an and living in the service of humanity and not mercilessly killing innocents in my name.”

Read it in full; see how a genuine man of faith speaks, bearing witness to the faith that feeds his spirit and the talent he earns his living from, and considering both as gifts from the Divine and thus fully in tune with each other.

The trouble with people like Qadri and Noori is that they have split personalities and have as much stuff to hide as they profess to strut before us. And the news-writers go along out of ignorance—but also due to a lack of genuine curiosity. Qadri earns his living at a mosque attached to a dargah. Now if we went to a Deobandi mufti, he would be happy to issue a fatwa against anyone whose source of income is a dargah, for that is not what the Deobandis allow. For them: no dargahs; no grave-worship; no belief in any miracle-making saint. And the same savant would happily declare Noori a mushrik—one who shares his belief in God with a belief in another god—for Noori, when he goes to his ‘Bareli Sharif,’ bows before the grave of Ahmad Raza Khan, and touches his forehead to it. Likewise, God help the Deobandi who attends a meeting to celebrate the birthday of the Prophet but fails to stand up and sing along with the congregation when the preacher announces the Prophet’s birth. So it goes, and it gets worse every day. This rising sectarianism is to be blamed as much on the silence of the liberals in India, Muslims and non-Muslims—as on the belligerent vociferousness of the mullahs.

I am old enough to remember the time when the same kind of mullahs objected to the use of sound amplification in mosques. Even its use during the sermon part of the service on Fridays and the two Eids was considered an abominable innovation— a bid’a. Now even the tiniest mosque has two loudspeakers on its roof. One of the joys of my childhood in Barabanki was to wake up in the morning and listen to the music of the azaan as it came wafting over the air—in human dimensions. Now the same words turn into a painful cacophony as they blast into the air from at least eight different sets of loudspeakers. So here is a request to the newsperson who next goes to get the details of some fatwa from one of the savants from Bareli, Deoband, Nadva, Firangi Mahal, and so forth: please ask the savant what he thinks of the loudspeakers on his mosque; also ask him if there is not a ruling in several religious texts that no mosque should be built so close to another that its azaan—unamplified, of course—be heard in the other mosque? Then, if the mullah convinces you of the religious sanctity of his two loudspeakers, please move next door to his mosque, but please spare us his blathering calling it a fatwa. Please remember that a fatwa is not an edict; it is not binding on anyone; it can be countered by another fatwa; it dies with the death of the person who issues it; and it is never issued against some specific person. And please always tell us who might expect to gain some money or power from that fatwa.

 

Originally appeared in Scroll.in on September 17, 2015.

She was born Ashrafun Nisa Begum in September 1840, in a Shia family that held a small zamindari in Bahnera, a small town in Bijnaur district, north-east of Delhi. She died in May 1903 in Lahore, where she was widely known as ‘Ustani Sahiba.’ Here we shall equally respectfully refer to her as ‘Bibi Ashraf,’ as was also done by some in her time. When she was growing up she was forbidden to learn to read and write. But when she died, Bibi Ashraf had been teaching little girls of Lahore to read and write — and much more — for 25 years. What had transpired? How did she obtain what her guardians had forbidden?

Bibi Ashraf grew up in her grandfather’s house. Her father had struck out on his own, much against the wishes of his father, and worked as a lawyer in the princely state of Gwalior, far away from Bijnaur. Her mother had died soon after giving birth to a second child, a son, when Bibi Ashraf was only eight. Consequently she was raised by her grandmother, who loved her, and an aunt, who did not, with everyone under the strict control of her grandfather.

Since there were other little girls in the extended family, a live-in ustani, a young Pathan widow, was hired to instruct them in homemaking talents such as cooking and sewing. She also taught them to ‘read’ the Quran, i.e. to vocalise the Arabic text but could not teach them how to read Urdu because she herself did not know it. After only a couple of years, however, the young ustani’s parents found a match for her and got her remarried. With that, Bibi Ashraf’s grandfather ended the girls’ education. “I can’t even bear the thought of having a stranger in my house teaching my girls,” he declared, “It would be better if the girls remained illiterate.”

Bibi Ashraf could have studied with her mother, but unfortunately she died very soon after the ustani’s departure. By then Bibi Ashraf had learned to vocalise seven chapters of the holy book. Her grandmother, seeing her inconsolable grief at losing her mother, told her to read those chapters every day, and then offer their ‘reward’ to her beloved mother’s soul. Bibi Ashraf was soon doing that several times every day. “The constant repetition improved my reading skill, and soon I could decipher and read forward on my own. In that manner, through God’s favour and my own effort, I finished the Quran in just one year, and a majlis was held to celebrate the occasion.”

But she still could not read Urdu, the language she spoke. Urdu texts did not come then, nor do they come now, equipped with extensive diacritical marks. And the few female relatives who could read Urdu refused to teach her. She begged and begged but they were either scared of her grandfather or just couldn’t be bothered. “‘What would you do with it if you learned to read?’ they said, ‘In any case, teaching isn’t easy, and we don’t have the time or energy to waste.’” Then, if she persisted or began to cry, they would say, “Your crying all the time made you lose your mother; God knows what further misfortune your tears might bring now”. On one such occasion, the little girl wiped her tears and walked away, but when alone she prayed to God for help, and also made a promise: “If I ever learned to read Urdu, God willing, I shall teach that skill to anyone who seeks it, and even forcibly to those who might be unwilling, for I shall never forget the pain I feel right now.”

She then decided to learn on her own, but first she had to find some texts to read. She sent the word out among her female relatives to let her have any devotional poems that they might have, promising to return them after getting them copied. She also asked her grandmother to get her some blank paper from the market. Very soon she had some poems and some paper, but who was there to make copies for her? She could not ask her fearsome grandfather and equally irascible uncle, and no female relative had the necessary skill since writing had always been forbidden to the women in her family.

Tenacious and intrepid, the little girl again decided to do it herself. “I resolved that when at noon everyone rested I shall make some ink with the soot from the tava in the kitchen and start copying. And that is exactly what I did. I gathered some soot, the lid from a water pot, and a few twigs from the broom, then sneaked up to the roof [to be by myself] and happily started copying a poem. Childhood can be so innocent — no sooner had I copied a few words than I felt I had won the battle.”

Before coming back downstairs she broke the ink-stained lid and threw away its pieces. That routine she followed for many days — much to the annoyance of some of the ladies: “They grumbled and cursed the wretch who stole a lid from the pots every day”. And then, much to her dismay, she discovered that though she had made copies she was still not able to read them. “I had spent so much time and effort, but for nothing. I tried but could not make any headway. Then God brought me a teacher.”

One day as she was reading the Quran a younger male relative asked her if she could help him with his daily Quran assignment — he wished to be saved from the thrashing he received daily from his Maulvi Sahib. She agreed. One day, when she was helping him with his assignment, a book fell out of his book bag. It was an Urdu book, its text unmarked with diacritics. “What book is that? I asked. The script is like that of a marsiya. Read me some of it.” The boy did. She liked the contents, and asked him to teach her to read that particular book. The boy refused — he didn’t have the time; the book was too difficult for her; she could never learn — but quickly changed his mind when she threatened to stop helping him. Her joy, however, was short lived. Three days later the boy was sent away to study at Delhi.

But Bibi Ashraf still had his book, and so once again she started teaching herself a new skill on her own. Months of effort finally brought success. She finished the book, then turned to the copies she had made, and found to her great delight that she could make sense of those scrawls. “I said to myself, ‘Whatever one gets, gets only through her own effort’. I then returned to my routine with twigs and kitchen blacking — considering them my true teachers — and started copying sentences from different books. After only a few days’ practice, I was able to freely write from memory.”

But she had to keep it a secret. Though her grandfather had passed away, her uncle was still at home. It was only after he joined his brother in Gwalior that Bibi Ashraf’s ability to read and write became known to all the females in the extended family in Bahnera. Many of them started coming to her to get letters to their husbands written. “The women would disclose to me their innermost secrets, things that they would never speak of in front of anyone. I understood only one-tenth of what they dictated. But the letters I wrote for them brought back replies.”

Then came the turmoil of 1857, and for 18 months the people in Gwalior received no news from Bahnera. When some peace had returned, her father sent a man to find out how everyone had fared. The man took back two letters with him, one from Bibi Ashraf’s grandmother that she had asked her own brother to write on her behalf, and one from Bibi Ashraf that she had written on her own. Her father wrote back to his mother, “Mamun sahib’s letter told me the news of only the members of the household; he didn’t write anything of the turmoil or about the other relatives. The girl’s note, however, made me very happy, for she wrote all that she had heard or seen. Her letter gave me the pleasure of a newspaper or a history book. I read it over every day. But tell me, who taught her to write?” On learning that she had done it on her own, he sent her many gifts; her uncle, however, was very upset, and sent only a chiding note.

In 1859, Bibi Ashraf was married to Syed Alamdar Husain, a second cousin, who had studied Arabic at the famous Delhi College. After a stint in a minor position in the Education Department, he had been appointed as the assistant professor of Arabic and Persian at the Government College, Lahore. Unlike the men of the previous generation, Husain brought his wife to Lahore, where they had four children. Only two survived beyond infancy. Then a bigger calamity happened. Husain died of tuberculosis in 1870; he was then only 39. (Incidentally, it was his vacancy that was then filled with the appointment of Muhammad Husain Azad, the famous writer.)

Shortly thereafter Bibi Ashraf lost her father too. The director of public education, an admirer of her late husband, offered scholarships to the surviving daughters and Bibi Ashraf a teaching job in the local girls’ school; she accepted the scholarships but declined the job, choosing to support the family by doing sewing and lace-making at home. But eventually, in 1878, some elders managed to persuade her to accept the job when it was again offered, and thus began her long career at the Victoria Girls’ School — and the fulfilment of the promise she had made to God when she was in despair over her own illiteracy.

We know about Bibi Ashraf because an equally remarkable woman left us a book about her. Muhammadi Begum was a novelist and poet; she was also the editor of the Tahzib-e Niswan, the famous weekly journal for women that her husband Munshi Mumtaz Ali had started publishing in 1899. (It is little known that it was one of Muhammadi Begum’s poems that provided the title for Maulana Ashraf Ali Thanvi’s Bihishti Zevar — he quoted the poem but did not mention her name to protect his own modesty.) Muhammadi Begum knew Bibi Ashraf personally, and persuaded her to write several pieces for the journal, including an account of how she had learned to read and write. At Bibi Ashraf’s death Muhammadi Begum published a poem in Tahzib-e Niswan; then some time later she further expressed her love and admiration for Bibi Ashraf in a short biography entitled Hayat-e-Ashraf. It was privately published and remained lost till it was reprinted in 1978, though again for private distribution. It includes the autobiographical essay by Bibi Ashraf from which I have quoted above.

It is a book that deserves to be better known for several reasons. Besides telling the story of a remarkable person, it throws light on certain facets of middle-class Muslim women’s life in small towns in north India while also giving us a glimpse into the emergent changes in the lives of a similar cohort of women in Lahore at the end of the 19th century. I wrote about it in 1987 in an essay, ‘How Bibi Ashraf Learned to Read and Write’ in The Annual of Urdu Studies, No. 6. I subsequently prepared an English translation of the entire book but have waited to publish it, for I also wish to include, in translation and in Urdu, the 18 short pieces that Bibi Ashraf published in Tahzeeb-e-Niswan between 1899 and 1902. All efforts to find the old files have so far failed. Like so many other things, we have failed to preserve most of the cherished Urdu journals of the past. May I hope now for some reader to step forward and prove me wrong?

 

Originally published in Dawn (Karachi).

 

05. June 2015 · Comments Off on Islamophobia and Blasphemy · Categories: Archive, Muslims in South Asia, The Only World We have · Tags: , , ,

I have huge respect for Javed Anand and the work he has been doing (with Teesta Setalvad) for a few decades. But I would like to raise some caveats concerning his piece ‘On the other side of fear‘ (IE, September 29).

His essay chiefly consists of three parts. In the first, he rightly condemns the manner in which Muslims in some countries have protested against the notorious anti-Islam video. Next, he asserts that something new is taking place now: a “reiteration… by a growing number of Muslim scholars that Islam too rests on the freedom bedrock and the very notion of blasphemy is ‘un-Islamic’.” In support of this claim, Anand refers us to unnamed editorial-writers and religious leaders in the Urdu press, and in particular draws our attention to a “boxed” letter from a Saudi Arabia-based Indian Muslim, Abdul Rehman Mohammed Yahya, that simultaneously appeared on September 24 in three Urdu journals, Sahafat, Inqilab and Rashtriya Sahara. To quote Anand: “The gist of the long letter is a rhetorical question addressed to fellow Muslims: ‘What did Prophet Muhammad do in the face of repeated insults heaped on him during his lifetime?’ The answer: he forgave them.”

Surely, the present Muslim definition of “blasphemy” is not limited to “any insult to the Prophet of Islam”? Even in India, there are at least two prominent anti-”blasphemy” movements at play among the Muslims under the guise of Tahaffuz (Protection): Tahaffuz-i-Khatm-i-Nabuwat (Protection of the Finality of Prophethood), accusing the Ahmadis of “blasphemy”; and Tahaffuz-i-Namus-i-Sahaba (Protection of the Honour of the Companions of the Prophet), accusing the Shias of “blasphemy”. Not to mention the accusations of “blasphemy” against Salman Rushdie and Taslima Nasrin. Second, while Anand is right in stating that it “is a universal Muslim belief that the Prophet never retaliated to repeated insults to him, through either word or deed”— and, indeed, the vast majority of Muslims live by that belief, and many may even try to emulate it in their own lives — it is also true that a few enemies of the Prophet were ordered by him to be mortally punished, including one or two who verbally abused him. A devout Muslim, therefore, may claim a right to follow whichever tradition suits his own inclination.

The issue should not be what the Prophet did or did not do, for once we raise it we only fall into an easy trap. It becomes a conflict between only apparently equal claims of righteousness; quickly, it becomes another instance, at best, of sectarianism, and, at worst, of “blasphemy”. In any case, a devout Muslim may aspire to emulate the Prophet’s actions but by the same token can never claim to have done so. Yahya’s letter is a good sign, but so are also a few other articles. These are acts of personal piety, and one must be thankful for them. But the same boxed space — actually there is nothing special or prominent about it — in Sahafat (Delhi) that carried Yahya’s letter contained on September 29 a letter on the same subject of the video from a Muhammad Ziaur Rahman, department of Urdu, Delhi University, under the title: “Yahud wa Nasara Musalmanon ke Khullamkhulla Dushman” (Jews and Christians are blatant enemies of the Muslims). Rahman claims, among other things, that on September 11 this year, the film “Innocence of Muslims” was shown in cinemas across the United States, and that the United States rained missiles on Iraq when a woman in Baghdad named Laila Al-Attar drew a cartoon of President George Bush [in 2003].

In the final part of his essay, Anand highlights “Islamophobia” in Western countries, using as his chief source a recent book, The Islamophobia Industry, by Nathan Lean. I confess I have only read about the book, and not the book itself. Its significance seems to lie in what its subtitle describes: “How the right manufactures fear of Muslims.” It is the political right in the US that Lean is concerned with, and “Islamophobia” is not what describes it. The American right has its own political agenda; its domestic dimension, in fact, is its chief driving force. “Islamophobia” is only one of its many tactics — similar, to my mind, to the fear-mongering of the right in India, as also of the right among Indian Muslims. Vis-à-vis the latter, it mainly takes the form of “anti-Jewism” and anti-Ahmadism, together with the cry of an exceptional and absolute “victimhood”. From the perspective of the health and security of any democratic polity or its civic society, however, the two slogans—“Islam is a cancer” and “Islam is in danger”—are equally pernicious and corrosive.

Anand closes his comments by asking a rhetorical question: “Are Muslims being made the “new Jews” in post-Holocaust West?” The influence and success of the Israel lobby in American politics should not mean that anti-Semitism has disappeared in the US. It is as much present now as is racism, though not in the blatant manner it used to be before World War II, and, judged by what appears in the Urdu journals of India and Pakistan, still is among much of the Muslim population in South Asia.

——-

Originally published in The Indian Express (New Delhi), October 2, 2012.